حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسکولوں میں دینی تربیت کے لیے تعینات "مبلغینِ امین" کی خدمات کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حوزہ علمیہ ایران کے میڈیا و سائبر اسپیس سینٹر کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین رضا رستمی نے کہا ہے کہ مدارس میں مبلغینِ امین کی موجودگی کو مستحکم بنانے کے لیے ان کی خدمات اور مثبت نتائج کو میڈیا کے ذریعے نمایاں کرنا ضروری ہے۔
قم میں مدارسِ امین کی نئی ویب سائٹ کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں حوزۂ علمیہ کی موجودگی دینی و اخلاقی تربیت کے حوالے سے ایک اہم اور مستقبل ساز قدم ہے۔ تاہم اس میدان میں ہمیشہ حمایت اور مخالفت، دونوں طرح کے رجحانات موجود رہے ہیں۔ بعض حلقے مدارس میں حوزۂ علمیہ کے کردار کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، جبکہ کچھ عناصر اس کردار کو محدود یا کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں وزارتِ تعلیم، حوزۂ علمیہ کی قیادت بالخصوص آیت اللہ اعرافی اور مبلغین کی مسلسل کاوشوں کی بدولت اس منصوبے کو آگے بڑھانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس منصوبے پر مزید سرمایہ کاری کی جائے اور اس کے مثبت نتائج کو مؤثر انداز میں پیش کیا جائے۔
حجت الاسلام رستمی کے مطابق والدین، اساتذہ اور اسکولوں کے منتظمین اس حوالے سے سب سے بہتر گواہ ہیں۔ اگر وہ یہ بیان کریں کہ مبلغینِ امین کی موجودگی سے طلبہ کے اخلاق، تعلیمی دلچسپی اور تربیتی رویوں میں بہتری آئی ہے تو ایسے حقیقی تجربات عوامی رائے پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔
انہوں نے میڈیا اور سوشل میڈیا کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مثبت تجربات کو ویڈیوز، رپورٹس اور دیگر میڈیا مواد کی صورت میں پیش کیا جانا چاہیے تاکہ معاشرہ اس منصوبے کے ثمرات سے آگاہ ہو سکے۔
آخر میں انہوں نے اعلان کیا کہ حوزہ کا میڈیا مرکز مدارسِ امین سے متعلق مثبت اور مؤثر میڈیا مواد کی تیاری میں ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
واضح رہے کہ مبلغینِ امین ایران کے حوزۂ علمیہ اور وزارتِ تعلیم کے مشترکہ تربیتی منصوبے "طرحِ امین" سے وابستہ دینی مبلغین کو کہا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت حوزۂ علمیہ کے تربیت یافتہ علماء اور طلبہ کو اسکولوں میں بھیجا جاتا ہے تاکہ وہ بچوں کی دینی، اخلاقی، تربیتی اور مشاورتی رہنمائی کر سکیں۔ یہ مبلغین عام طور پر باقاعدہ اساتذہ کی جگہ نہیں لیتے بلکہ اسکول انتظامیہ، اساتذہ اور والدین کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے طلبہ کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت، مذہبی آگاہی اور سماجی مسائل کے حل میں مدد دیتے ہیں۔
"امین" (امین، قابلِ اعتماد) کا مطلب یہ ہے کہ یہ مبلغین طلبہ، والدین اور اسکول کے درمیان ایک قابلِ اعتماد تربیتی رابطہ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں عموماً شامل ہوتا ہے:
- بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت
- نماز، قرآن اور اسلامی تعلیمات کی ترویج
- نوجوانوں کے فکری اور اعتقادی سوالات کے جوابات
- خاندانی اور تعلیمی مسائل میں مشاورت
- قومی و سماجی اقدار کی ترویج
- والدین اور اساتذہ کے ساتھ تربیتی تعاون









آپ کا تبصرہ